کولکتہ 19/جنوری (ایس اونیوز) لوک سبھا انتخابات کو لے کر حزب اختلاف کے مہا گٹھ بندھن نے مغربی بنگال کے کولکتہ سے انتخابی بگل پھونک دیا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی دعوت پر ملک کی 23 سیاسی پارٹیاں ایک اسٹیج پر کھڑے ہوکر اپوزیشن کو ایک مضبوط پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوگئی ہیں کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات مودی حکومت کے لئے باہر کا راستہ دکھاسکتے ہیں۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت کو ہٹانے اور اپوزیشن کی طاقت کا مظاہرہ دکھانے کے مقصد سے منعقد کی گئی یہ مہا ریلی لوک سبھا چنائو کے نظرئے سے کافی اہم مانی جارہی ہے۔
اب جبکہ لوک سبھا چنائو میں صرف کچھ مہینے باقی رہ گئے ہیں تو سال 2019 کے اس شروعاتی مہینے میں ہی اپوزیشن کا اتحاد دکھانے کا یہ پہلا موقع ہے۔ مہا ریلی بلانے والی ممتا بنرجی نے خود ہی جلسہ کی نظامت کی ذ مہ داری سنبھال رکھی تھی، ایک ایک کرکے انہوں نے قد آور لیڈروں کو دعوت دی۔ اپوزیشن کے سارے بڑے لیڈرس کے انگریزی اور ہندی میں خطاب کے بعد آخر میں ممتا نے مائک سنبھالا اور مقامی بنگلہ زبان میں لوگوں سے خطاب کیا۔
یہ ریلی کئی معنوں میں مختلف رہی، تین زبانوں میں یہاں خطاب کیا گیا، ریلی میں کچھ وقت پہلے تک این ڈی اے اور بھاجپا کے معاون بنے لیڈران تو شرکت کی ہی، بھاجپا کے کچھ باغی لیڈران نے بھی شریک ہوکر منچ کی شان بڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔
ریلی میں ترنمول کانگریس، راشٹریا جنتا دل، عام آدمی پارٹی، تیلگو دیشم پارٹی، جنتا دل (سیکولر)، سماج وادی پارٹی، نیشنل کانگریس پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، ڈی ایم کے، نیشنل کانفرنس، راشٹریا لوک دل اور بہوجن سماج پارٹی نے شرکت کی۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے علاوہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال، آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندر بابو نائیڈو اور کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے بھی ریلی میں شرکت کی۔ ان کے ساتھ ساتھ مہا ریلی میں اُترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھیلش یادو، جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ و عمر عبداللہ (دونوں نیشنل کانفرنس) بابو لال مرنڈی (جھارکھنڈ وکاس مورچہ) اور سابق وزیراعلیٰ ہیمنت سورین (دونوں جھارکھنڈ) اور ارونا چل پردیش کے سابق وزیراعلیٰ گوگانگ اپنگ موجود تھے۔
ریلی میں دیگر قد آور لیڈران میں سابق وزیر اعظم و جنتا دل سیکولر کے کرتا دھرتا ایچ ڈی دیوے گوڈا،سمیت ملیکارجن کھرگے، ابھیشک منو سنگھوی، ستیش چندر مشرا، ہاردک پٹیل،شرد یادو، اجیت سنگھ، شرد پوار، یشونت سنہا، ارون شوری، شتروگھن سنہا ، رام جیٹھ ملانی اور دلت لیڈر جگنیش میوانی نے بھی حصہ لیا۔
ممتا کو سونیا کا پیغام: مودی کے خلاف اپوزیشن یکجہتی کے لئے بریگیڈ ریلی لازمی
یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی نے کولکاتہ میں وزیر اعلی ممتا بنرجی کی بریگیڈ ریلی کے لئے اپنا پیغام روانہ کرتے ہوئے اپوزیشن کی ریلی کو’’تکبر اور تقسیم‘ پر عمل در آمد نریندر مودی حکومت کے خلاف تمام سیاسی پارٹی کے لیڈروں کو متحد کرنے کی اہم کوشش بتایا۔ ریلی کے لئے بھیجے اپنے پیغام میں انہوں نے پروگرام کے لئے کامیابی کا متمنی بھی بتایا ۔
واضح ہو کہ اس ریلی میں سونیا اور کانگریس صدر راہل گاندھی شامل نہیں ہوئے تھے۔اپنے پیغام میں سونیا گاندھی نے ملک کی حالت زار پر کہا کہ ہمارے کسان بحران میں ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں. چاول اور جوٹ کسان پریشان ہیں اورماہی گیری کا شعبہ بھی بھاری نقصان برداشت کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کافی خراب حالات سے گزر رہا ہے۔ اقتصادی طور پر ہمارے شہری مشکلات کے شکار ہیں ۔ سیاسی طور پر ہمارے اداروں کو بے وقار اور کمزور کرنے اور سماجی طور پر تکثیری تانے بانے کو برباد کیا گیا۔
سونیا نے کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کوئی ’عام انتخابات‘ نہیں ہے، یہ جمہوریت میں ملک کا اعتماد بحال کرنے، ہمارے سیکولر ڈھانچے اور وراثت کو بچانے کے لئے الیکشن ہے۔ برسر اقتدار طبقہ ہندوستان کے آئین کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔
ریلی میں سونیا گاندھی کے پیغام کو کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ملیکا ارجن کھرگے نے پڑھا۔کھرگے اور پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی طرف سے منعقد اپوزیشن ریلی میں کانگریس پارٹی کی جانب سے شامل ہوئے تھے۔
ممتابنرجی کی ریلی میں اسٹالن نے لوک سبھاانتخابات کوبتایا آزادی کی دوسری جنگ
ممتا بنرجی کی ریلی میں شریک ڈی ایم کے صدر ایم کے سٹالین نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات بی جے پی کے کٹر ہندوتوا کے خلاف ہندوستان کے لوگوں کے لئے آزادی کی دوسری جنگ آزادی کی طرح ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سمیت کچھ لوگوں سے خوفزدہ ہیں۔بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں انہوں نے کہا کہ اگلا (لوک سبھا)انتخابات آزادی کی دوسری جنگ ہوگی،ہم ہندوتو اور کٹر ہندوزم کے زہر کو پھیلانے سے روک دیں گے، ہماری اپیل مودی کو شکست دینے اور ملک کو بچانے کے لئے ہے۔اسٹالین نے کارپوریٹ گھرانوں کے لئے کام کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اگر مودی دوبارہ اقتدار میں آئے تو ملک 50سال پیچھے چلا جائے گا، بیجو جنتا دل اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی (ایم)اور بائیں فرنٹ کے علاوہ تمام حزب اختلاف لیڈران نے ریلی میں شرکت کی۔